دستور و پالیسیاں

ابتدائیہ
انسان کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کا سبب تخلیق کیا ہے ؟ انسان جیسا عظیم شاہکار زندگی کیسے گزارے؟ اس دنیا فانی کے ہنگاموں اور اس کی چہل پہل کے دبےز پردوں میں حیات ابدی کے کون کوں سے اسرارور موز پوشیدہ ہیں؟ یہ ہیں وہ چند سوالات جو ہر عقلِ سلیم رکھنے والے انسان کی لوح زہن پر گاہے بگاہے الفاظ کا بھید بدل کر ابھرتے اور ڈوبتے رہتے ہیں۔ تفکر کی اس کٹھن منزل پر بدنصیب انسان اپنی آزدانہ روش کے باعث اپنے وجود کو بے مقصد سمجھ کر مادیت پرستی کے لغو نظریات کے ذریعے راہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ انسان جو تلاش حق میں جستجو پر کمر بستہ ہوں آخرکار دین کی حقانیت اور افادیت کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ان کے قرآنِ مجید مقصدِ حیات یوں واضح کرتا ہے۔
ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون
یعنی میں نے جنوں اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگر اس لیے کہ عبادت کریں
مفہوم عبادت صرف صوم و صلوۃ تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانی زندگی کے نظام پر نظام پر محیط ہے۔ قرآن کے قاری کے لیے نظام حیات کے نظریات اور تعلیمات کی راہیں کھل جاتی ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نظام حیات کی تلاش میں اپنے غلط رہنماؤں اور رہبروں کی وجہ سے اصل منزل سے بھٹک جاتے ہیں۔ عرفان کی اس منزل پر قرآن کے معلم اعظم، خاتم المرسلین سرور کائنات کی شقیق اور دلنشین آواز آتی ہے۔
انا مدینتہ العلم وعلیؑ بابھا
یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں
یوں سید الانبیائ ؑ نے حق کے متلاشیوں کی راہ متعین کردی۔ حضرت امام حسین ؑ نے کربلا کے درمیان میں تخلیق کائنات اور حیات ابدی کے اسرار موز سے پردے اٹھادئیے۔
پیغام حسینیت کا کائنات کے چہار اطراف پھیلا ہوا ہے اور اہلِ علم و دانش کے لئے دعوت فکر و عمل دیتا ہے۔ عمل کرنے والے، امام زمانہ ؑ کی خوشنودی حاصل کر کے یقینا نجات کا سامان کرلیں گے۔ اقوام عالم کو اس حسینی ؑ پیغام کی افادیت سے بہرہ ور کرنے کے لئے نوجوان نسل کے زور بازو اور قوت ذہن کی ضرورت ہوگی اور اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لئے نوجواں میں وسعت فکر و نظر اور ہم آہنگی کی خاطر ایک منظم اور ہمہ گیر تنظیم کی ضرورت ہے۔
لاہور کے شیعہ طلبہ نے یہی احساس کرتے ہوئے ١٩٦٢ء میں شیعہ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی جو ١٩٦٨ء تک بڑی سرگرمی سے اپنے مقاصد کے حصول میں کوشاں رہے اور شیعہ طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے میں ایک اہم رول ادا کیا۔طلبہ میں ایک دوسرے کی مدد کا شعور پیدا کر کے ان کے لئے ایک اچھی اور اعلیٰ اخلاق کی سوسائٹی کی بنیاد رکھی۔ ملکی سیاسیات اور بعض افراد کے ذاتی اختلاف کی وجہ سے ١٩٧٠ء تک مختلف کالجز میں مختلف ناموں سے چند طلبہ اپنے مفادات کے لئے سرگرم عمل رہے۔
شیعہ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن انجیرئنگ یونیورسٹی لاہور نے شیعہ طلبہ کو پھر ایک پلیٹ فارم پر منظم کرنے کا عزم کیا۔ ٢٢ مئی ١٩٧٢ءکو اس نے لاہور کالجز کے شیعہ نمائندوں کا کنونشن انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں طلب کیا۔ اس میں امامیہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن گورنمنٹ کالج لاہور، شیعہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب یونیورسٹی، شیعہ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کالج آف کامرس اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، لاء کالج و اورینٹل کالج، جمعیت طلبہ اثنا عشری نیو کیمپس کی تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ دیگر چودہ کالجوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔وسیع تر قومی مفادات کے خاطر تمام تنظیموں کو ختم کر کے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور ١١ جون ١٩٧٢ء کو ان نمائندوں نے اس کا باقا عدہ دستورالعمل منظور کرلیا۔ یہ دستور اس نظریہ کے تحت بنا گیا کہ پہلے اس آرگنائزیشن کو تجرباتی طور پر لاہور میں چلایا جائے اور کامیابی کے بعد دوسرے شہروں تک وسعت دی جائے۔
دوسرے شہروں کے طلبہ نے اس آرگنائزیشن کی کاکردگی اور افادیت سے متا ثر ہوکر اپنے کالجوں میں شاخیں کھول دیں۔ ١١ مئی ١٩٧٤ء کو تمام شہروں کی نمائندوں کا اجلاس ہوا۔ جس میں سابقہ دستور العمل کو ناکافی سمجھا گیا۔ لہذا ٢ فروری ١٩٧٥ء کو اسی دستور کے مطابق تمام کالجوں کے نمائندوں پر مشتمل مجلس عاملہ نے اس دستور کے تشنہ پہلوؤں کے متعلق اہم ترامیم کیں۔ ادارے کی اس پختگی کے ساتھ کہ آئندہ زمانے کی بادسموم کا کوئی جھونکا ہمیں متاثر نہ کرسکے یہ عزم کیا کہ آرگنائزیشن کو پاکستان کے کونے کونے میں پھیلا دیا جائے گا اور یہ نسل کو مذہب حقہ سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرے تاکہ نوجوان نسل اپنے اہم دینی فرائض سے عہدہ بر آسکے اور یہ قوم اپنا اصل مقام حاصل کرسکے۔
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے کارواں کے قدم تقریباً دو سال میں پاکستان کے نہ صرف ہر تعلیمی ادارے میں پہنچے بلکہ یہ طلبائ کی پہلی تنظیم کہے جاسکتی ہے جس کا پرچم پاکستان کے پرچم کے ساتھ ہر شہر، قصبے اور کونے میں لہرانے لگا۔١٩٨٦ءمیں تنظیم کے دستور کے مطابق شعبہ طالبات بھی قائم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ جو دستور میں آرٹیکل نمبر ٨ کے تحت مندرجہ ذیل الفاظ میں دیا گیا تھا۔

Close