آرٹیکلامامیہ نیوزاہم خبریںفرنٹ پیج

مشرق وسطیٰ ایک نئے طوفان کی جانب گامزن

مشرق وسطیٰ ایک نئے طوفان کی جانب گامزن
(تحریر: حسین عابد )
مشر ق وسطیٰ کے حالات نہ صرف مد و جزر کا شکار ہیں بلکہ لگتا ہے کہ اب یہ مد وجزر ایک ایسے طوفان کی شکل میں ڈھلنے جارہا ہے کہ جس کے بعد نئے مشرق وسطیٰ اور شائد نئی دنیا کے خدوخال مزید واضح ہوتے جائیں گے ۔حال ہی میں لبنانی وزیر اعظم کے سعودی دارالحکومت سے سعودی ٹی وی چینل پر دیا جانے والا استعفی صرف کسی ملکی سربراہ کا عام سا استعفی نہیں تھا ۔

تمام عرب معتبر و سنجیدہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حریری کا استعفی اس سے قبل کہ لبنانی عوام اور اتحادی حکومت کے لئے نقصان دہ ہو ذاتی طور پر خود انہیں اور ان کی جماعت کے لئے نقصان دہ ہے حریری کو لبنان کی اکثر جماعتوں بشمول اپوزیشن اور حلیف سیاسی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل تھی اگرچہ لبنانی کہتے ہیں کہ حریری وزیر اعظم بن ہی نہیں سکتا تھا اگر اس کی جماعت فیوچر پارٹی یا المستقبل پارٹی کو لبنان کی موثر سیاسی و دفاعی جماعت حزب اللہ کی حمایت حاصل نہ ہوتی ۔

حریری کے پاس صرف سعودی شہریت ہی نہیں بلکہ اس کی سیاسی وابستگی سعودی عرب سے رہی ہے جو کہ ان کے مرحوم والد رفیق الحریری کے زمانے سے چلی آرہی ہے یہاں تک کہ لبنان میں فیوچر پارٹی اور حریری خاندان کو سعودی عرب کے مفادات کا پاسدار خاندان سمجھا جاتا ہے۔

لیکن سعودی عرب میں بادشاہ عبداللہ کے بعد بادشاہ سلمان کے دور میں حریری اور سعودی حاکم خاندان کے درمیان کشیدگی کا آغاز ہوا تھا یہاں تک کہ سعودی عرب میں موجود حریری کی ایک اہم تجارتی کمپنی اوگرکو دیوالیہ تک ہونا پڑا ۔اوگر کا شمار سعودی عرب میں موجود چند نمایاں تجارتی کمپنیوں میں ہوتا تھا کہ جس کے ملازمین کی تعداد ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے تجاوز کرتی ہے ۔

حریری نے اپنا استعفی نامہ پیش کرتے وقت نہ صرف تمام تر الزام لبنان کی جماعت حزب اللہ اور ایران پر ڈالا بلکہ اس کے استعفی نامے کی تحریربھی انتہائی گھٹیا اور سیاسی و سفارتی آداب سے باہر تھی۔

عالمی و عرب باڈی لینگوئج کے ماہرین کے کہنا ہے کہ حریری کا لب و لہجہ اور انداز سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ جو کچھ وہ کہہ رہاہے اس میں اس کی مرضی شامل نہیں ،اس کے الفاظ اس کے انداز کے ساتھ بالکل بھی ہم آہنگ نہیں تھے ۔حریری کے استعفے کے ساتھ ہی سعودی عرب کے ذمہ داروں کا لہجہ لبنان کی جماعت حزب اللہ کے بارے میں مزید تلخ اور دھمکی آمیز ہوتا جارہا ہے یہاں تک کہ وہ حزب اللہ کیخلاف عسکری کارروائی کی بات کرنے سے بھی کترا نہیں رہے ۔

حزب اللہ جوکہ ہمیشہ سے سعودی عرب کے دائمی اتحادی امریکہ اور حالیہ نئے نویلے اتحادی اسرائیل کی سازشوں اور دھمکیوں کی زد میں رہی ہے کیونکہ اس جماعت کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ یہ جماعت مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مقابل ایک مزاحمتی جماعت ہے اور اسرائیل اسے اپنے لئے ایک بہت بڑا خطرہ سمجھتا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں حزب اللہ اسرائیل مخالف بلاک میں مرکزی و بنیادی حثیت رکھتی ہے ۔

لبنان کو اسرائیلی قبضے سے آزادی دلانے سے لیکر اس کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے تک حزب اللہ ہی کا کردار رہا ہے یہاں تک کہ بات صرف عسکری میدانوں تک نہیں بلکہ سیاسی میدانوں میں بھی حزب اللہ لبنان میں ہر اس پالیسی کے آگے رکاوٹ بنتی رہی ہے جو سیاسی طور پر کسی بھی شکل میں اسرائیل کے لئے معمولی سے بھی گنجائش فراہم کررہی ہو ۔

عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ و اسرائیل چاہتے ہیں کہ سعودی عرب براہ راست لبنان سے ٹکر لے یا کم از کم فرنٹ لائن کو اختیار کرے تاکہ مسئلہ فرقہ وارانہ رنگ میں ڈھل جائے یوں مشرق وسطیٰ کے اکثر عرب ممالک کی حمایت سے حزب اللہ محروم رہے گی اور اس کے ساتھ مقابلہ آسان ہوگا ۔

امریکی اسرائیلی اس خیال سے قطع النظر کیا عسکری حوالے سے یہ امکان ہے کہ سعودی عرب براہ راست لبنان پر حملہ کرسکے ؟جیساکہ اس نے یمن پر اس وقت کیا ہوا ہے اورچند خلیجی عرب ممالک و امریکہ برطانیہ اور اسرائیل کی اس مدد حاصل ہے۔ اگرچہ یمن پر حملہ ایک دلدل ثابت ہوچکا ہے ۔

اس بات پرکوئی شک نہیں کہ خطے میں سعودی عرب پہلا ملک ہے کہ جس نے سب سے زیادہ اور جدید فوجی سازوسامان خریدا ہے ،ساتھ میں سعودی عرب کا تعلق بھی ان ملکوں میں ہوتا ہے کہ جس نے متعدد ممالک کے ساتھ فوجی معاہدے کئے ہوئے ہیں کہ جن میں سرفہرست امریکہ ہے کہ جو ہمیشہ سے سعودی عرب کو سیکوریٹی فراہم کرنے کا دعوے دار ہے اور کروڑوں ڈالر اس مد میں سعودی عرب اسے ادا کرتا ہے ۔

اس تمام تر صورتحال کے باوجود سعودی عرب کے پاس کسی بھی قسم کے ذاتی جنگی تجربے کا فقدان ہے ،گذشتہ چند دہائیوں میں اس نے پہلی بار یمن جیسے انتہائی تباہ حال ملک پرخود چڑھائی کی کوشش کی ہے کہ جس میں اسے لینے کے دینے پڑ رہے ہیں کیونکہ تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی کامیابی کوسوں دور ہے او یمنیوں کے میزائل اب سعودی دارالحکومت پر دستک دینے لگے ہیں ۔عسکری ماہرین کہتے ہیں کہ سعودی عرب ایک اچھی فضائیہ رکھتا ہے لیکن اس کے پاس اہداف کو درست ٹارگٹ کرنے کا تجربہ بالکل بھی نہیں۔ جس کی دلیل یمن پر اس کی فضائی کاروائیوں سے واضح ہوتی ہے یمن جہاں اہداف بہت حدتک آسان اور کھلے ہیں جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے عسکری مراکز اور قوت انتہائی پوشیدہ ہے جس تک رسائی کی اسرائیلی امریکی کوششیں بھی اب تک ناکام رہی ہیں۔

سعودی طیاروں کو لبنان تک رسائی حاصل کرنے کے لئے شام یا پھر اسرائیلی فضا سے گزرنا ہوگا اسرائیل کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ اس کی فضائی حدود استعمال ہوں کیونکہ ایسی صورت میں خود اسے براہ راست حزب اللہ کے ساتھ ٹکرانا ہوگا ۔اس بات کا تو کوئی امکان نہیں کہ سعودی طیارے شام کی فضا کو استعمال کر پائینگے جہاں روسی اینٹی ائرکرافٹ بھی موجود ہے ۔سعودی عرب کے پاس نہ ہی ایسی کوئی بحری بیڑے ہیں جو لبنان کی سمندری حدود میں داخل ہوکر کسی قسم کی کارروائی کر سکیں جبکہ حزب اللہ نے سن دوہزار چھ میں اسرائیلی بحریہ کی انتہائی جدید کشتی کو درست نشانہ بناکر واضح کردیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی آبی سرحد کی حفاظت کی بھی مکمل صلاحیت رکھتی ہے ۔

سعودی عرب کے پاس کسی قسم کی بھی اسپیشل آپریشن فورس بھی نہیں کہ جو ایسی صلاحیت کی مالک ہو کہ گوریلا وار کی ماہر فورس حزب اللہ کیخلاف ایکشن میں آسکے ۔واضح رہے کہ ہمسائیے میں گھسے اسرائیل باوجود اسپیشل فورس کے ابتک ایسی کسی بھی قسم کی کارروائی سے پرہیز کرتا آیا ہے ۔

اگر سعودی عرب کے پاس اس قسم کی کوئی بھی فورس ہوتی تو یقیناً وہ اس وقت یمن کی دلدل سے نکلنے کے لئے اس کا استعمال کرتے جہاں انہیں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ۔لہذا عسکری اعتبار سے ہم اس قسم کی کسی بھی کارروائی کو عملی شکل اختیار کرتے نہیں دیکھ سکتے ان کے پاس صرف یہ آپشن بچتا ہے کہ وہ امریکہ ،اسرائیل اور بعض طفیلی عرب ممالک جیسے اردن کو ملائے گرچہ یہ تجربہ بھی اب تک یمن کے ایشو میں بری طرح ناکام دیکھائی دیتا ہے ۔

سعودی عرب کا براہ راست اسرائیل کے ساتھ کسی جنگ میں اتحادی بنکر کسی مسلمان ملک پر حملہ کرنا یقیناً خود اس کے لئے بھاری پڑے گا لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ سعودی عرب کی جانب سے دھمکی آمیز لہجے کا مقصد صرف رائے عامہ کی توجہ کو اندرونی اصل مسائل سے ہٹانا ہے جہاں بادشاہت کی غیر طبعی اور سعودی معاشرتی روایات کیخلاف تبدیلی ہونے جارہی ہے کہ جس کی خاطر سعودی عرب نہ صرف عربوں اور مسلمانوں کے دشمن اسرائیل کے ساتھ بھی تعلقات بنانے پر مجبور ہے بلکہ خود سعودی معاشرے کو لبرل ازم کی جانب گامزن کرنے پر تلا ہوا ہے ۔بشکریہ اللولو ٹی وی

Tags

Khuahar Fatima

Imamia Students Organization Pakistan (Girls Wing), Join us for all the updates. Email: isogirlswing@gmail.com

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close